بنگلورو31جنوری(ایس او نیوز)تعلیمی سال برائے 2018-19کے دوران کرناٹک کے 14لاکھ50ہزار اقلیتی طبقات کے طلباء نے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے مائنارٹی ڈائرکٹوریٹ کرناٹک میں آن لائن عرضیاں داخل کی ہیں ۔ ان میں سے تقریباً 4لاکھ طلباء کو مرکزی حکومت اسکالر شپ فراہم کرتی ہے ۔ لیکن مذکورہ تمام عرضیاں این ایس پی دہلی حکومت ہند کے پورٹل پر ڈال دی جاتی ہیں ۔ وزارت امور اقلیت حکومت ہند کے میرٹ کی بنیاد پر عرضیاں منتخب کرنے کے بعد بقیہ ڈاٹا کرناٹک کوروانہ کیاجاتا ہے ۔ تب حکومت کرناٹک کی جانب سے اسکالر شپ کی رقم منتخب طلباء کے بینک کھاتوں میں ٹرانسفر کی جاتی ہے ۔ دہلی نے اب تک یہ ڈاٹا کرناٹک کو روانہ نہیں کیا کیا ہے اس لئے جنوری ختم ہونے پر بھی اسکالر شپ کی رقم طلباء کے کھاتوں میں جمع نہیں ہوئی ہے ۔ ریاستی وزیر برائے امور اقلیت حج اور اوقاف بی زیڈ ضمیر احمد خان نے آج دہلی میں اپنے محکمہ کے افسروں کے ساتھ مرکزی وزیر اموراقلیت مختار عباس نقوی سے ملاقات کرکے اس جانب توجہ دلائی تو انہوں نے تیقن دیا ہے کہ ماہ فروری کے پہلے ہفتہ میں این ایس پی سے ڈاٹا کرناٹک بھیج دیا جائے گا۔اطلاع ملی ہے کہ ناگپور کے ایک نجی ادارہ نے اسکالر شپ جاری کرنے کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا تھا جس کی وجہ سے طلباء کواسکالر شپ جاری کرنے میں دو مہینوں کی تاخیر ہوئی ہے ۔ ضمیر احمد خان کے حوالہ سے مائنارٹی ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر اکرم پاشاہ نے دہلی سے نمائندہ سالار کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے اقلیتی طلباء کی اسکالر شپ کے لئے 300کروڑ روپئے محفوظ رکھے ہیں ۔دہلی سے ڈاٹا مائنارٹی ڈائرکٹوریٹ کوملنے کے فوری بعد منتخب طلباء کے بینک کھاتوں میں اسکالر شپ کی رقم ٹرانسفر کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسکالر شپ کی تقسیم میں تاخیر ڈاٹا نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایس ڈی پی اسکیم کے تحت ریاست میں اقلیتی طلباء کے لئے رہائشی اسکولس اور ہاسٹلوں کی تعمیر کیلئے مرکزی حکومت سے فنڈفراہم کیا جاتا ہے۔ رواں سال میں اس مد میں مرکز نے ایک سو کروڑ روپئے جاری کردےئے ہیں ۔ مزید 90کروڑ روپئے کی تجویز ضمیر احمد نے عباس نقوی کے سامنے پیش کی جس پر انہوں نے مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے اور وعدہ کیا کہ اقلیتی طلباء کیلئے رہائشی اسکولوں اورہاسٹلوں کی تعمیر کے لئے افزود رقم بھی جاری کی جائے گی۔